ڈھولک سے ڈانس فلور

By Mahwish Zaidi

یہ ان وقتوں کی بات ہے جب شاہراہ فیصل، ڈرگ روڈ شاہراہ قائد اعظم، مال روڈ اور شہر ساہیوال منٹگمری کے نام سے جانے جاتے تھے- اسی کی دہائی کی اوائیل میں ہمیں لائیل پور یعنی کہ آجکل کے فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا- یاد رہے کہ ان تین دہائیوں میں ہمارے ملک بلکہ دنیا میں نہ صرف جگہوں کے نام بدلے ہیں بلکہ ہماری تہذیب، رسومات اور کلچر کے بھی بہت سے پہلووں میں بدلاو آیا ہے- اب یہ تبدیلی اچھائی کے لیے آئی ہے یا اس نے برائی کو فروغ دیا ہے اسکا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتی ہوں-
“اچھے بنے مہندی لاون دے، ہریالے بنے مہندی لاون دے، خسرو بنے مہندی لگاون دے-“ لائیل پور شہر میں اپنی بڑی پھپھو کے گھر کے بڑے سے پورچ میں ہماری ١٩٧٤ ماڈل کی لال کرولا کے دروازے کھلتے ہی امیر خسرو کا کلام ڈھولک کی تھاپ پر ہمارے کانوں میں رس گھولنے لگا- آپ نے صحیح اندازہ لگایا یہ شادی کا گھر تھا، جہاں میری بڑی پھپھو کی سب سے بڑی لڑکی کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں- گو کہ ابھی شادی میں دس دن باقی تھے لیکن میرے والد نے دفتر سے چھٹی لے کر شادی کی تقریب میں بھرپور انداز سے شرکت کا فیصلہ کیا- اچھے وقت تھے کہ ان کو نہ تو اس چیز کی فکر تھی کہ واپس جانے تک شاید ان کی کرسی پر کوئی اور براجمان ہوجائے اور نہ اس بات کا خوف تھا کہ دفتر سے اتنی لمبی غیر حاضری شاید ان کی آنے والی ترقی کے راستے کی رکاوٹ بنے-

دسمبر ٢٠١٤، لاھور کی کڑاکے دار سردی، دھند میں چھپی ہوئی شہر لاھور کی سڑکیں، ایک اور شادی والا گھر، مگر حالات کچھ مختلف — یہ شادی میری بھانجی کی ہے- مہندی کی رات سے کچھ پانچ دن قبل بیرون ملک اور دوسرے شہروں سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا- ایک گاڑی اور ڈرائیور فقط ائیرپورٹ ڈیوٹی کے لیے مختص تھا کیونکہ موسم کی خرابی کے باعث پروازاں میں تاخیر ایک معمال کی بات تھی- گھر کے پورچ کو ایک خوبصورت مخملی قنات سے ڈھانپ کر ایک کبڈی کے سے میدان کا سماں باندھا گیا تھا- بڑے بڑے سپیکروں نے اس میدان کو چاروں جانب سے گھیر رکھا تھا- دراصل یہاں روزانہ ڈانس پریکٹس کی جاتی تھی۔ “تو گھنٹی بگ بین دی سارا لندن ٹھمکدا — اور جمع کی رات ہے چمے کی بات ہے اللہ بچائے مجھے تیرے وار سے“ جیسے گانوں پر نئی پود روبوٹوں کی طرح اچھل کود کر رہی ہوتی تھی جس کو اگر آپ بہت اثرار کریں تو رقص بھی کہا جا سکتا ہے۔

فروری کا مہینہ، لائیل پور کا خوشگوار موسم — پھپھو کے ڈرائینگ روم میں صوفے مستقل طور پر دیواروں کے ساتھ نصب کر کے بیچ میں سفید چاندنیاں اور گوٹا کناری والے لال مخملی گاؤ تکیے بچھا دیے گئے تھے۔ ایک طرف میری امی خاندان کی کچھ اور خواتین کے ہمراہ دلہن کے جوڑے ٹانکنے میں مصروف تھیں تو دوسری طرف میری کزنز، محلے کی لڑکیاں اور دلہن کی سہیلیاں ڈھولک پر شادی کے گانے گا رہی تھیں- “بنو تیرے ابا کی اونچی حویلی، بنو میں ڈھونڈھتا چلا آیا۔“ ماسی جمیلہ گاہے بگاہے بادام پستے والی کشمیری چائے، موچی دروازے کی خطائیوں کے ہمراہ سب کو پیش کر رہی تھیں۔ دلہن اس سب کاروائی کے بیچ کونے میں بیٹھی سر میں تیل کی مالش کروا رہی تھی۔

“باجی باہر پیزا والا کب سے بل لیے کھڑا ہوا ہے“ بینا باجی جن کی بیٹی کی شادی کی خوشی میں یہ سب رونق لگی ہوئی تھی، نے بغیر سوال کیے کہ جب گھر میں دو سالن اور ایک میٹھا بنا ہوا ہے تو کس نے پیزا آڈر کیا ہے، پرس میں ہاتھ ڈال کر پیزے والے کی زحمت تمام کی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ بچوں کی ایک فوج جو بیسمنٹ والے کمرے میں ایکس باکس کھیل رہی ہے میں سے ہی کوئی ایک اس گستاخی کا مرتکب ہوا ہو گا۔ ڈرائینگ روم کے ایک کونے میں بینا باجی کے شوہر ایونٹ مینیجر سے للی اور موتیے کی کلیوں کے بھاؤ اور سارے ہال کی ڈیکوریشن کا لیکچر سن رہے تھے- غضب خدا کا، بیٹی کی شادی ان کی، پیسے ان کے اور فیصلے سارے ایونٹ مینیجر کے۔ بحر حال جب لمبی تقریر کے بعد سارے بگلے اور مور ہال میں اپنی اپنی جگہ پر نصب کر دیے گئے تو جا کر ایونٹ مینیجر نے ان کی جان چھوڑی۔ اس گھر کے مختلف کونوں سے انوع و اقسام کے مسا ئل امنڈ امنڈ کر آ رہے تھے۔ ایک طرف دلہن کے کپڑوں کی فٹنگ صحیح نہی تھی تو دوسری طرف دلہن کی بہن کی قمیص ڈیزائینر نے غلط رنگ کی بنا دی تھی۔ مہندی کے فنکشن کی تھیم لڑکیوں کے لیے چنری کے سوٹ اور لڑکوں کے لیے سفید شلوار قمیص اور نیلی واسکٹیں تھیں جن میں سے آدھوں کا کپڑا ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی سیر کر رہا تھا کیونکہ ابھی تک سارے اوورسیز مہمان پہنچے ہی نہیں تھے کہ ان کے کپڑے سلتے۔ جوں جوں شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے گھر میں لوگوں کی ریل پیل میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ گھر کے ہر کمرے سے مختلف عمر اور سائز کے لڑکے لڑکیاں نکل رہے تھے۔ آٹھ بجے کے قریب جب میوزک سسٹم سیٹ ہو گیا تو اس کبڈی کے میدان کی پہلی زینت اللہ کی ایک ایسی مخلوق بنی جس کے لیے یہ کہنا تھوڑا مشکل تھا کہ وہ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے اور یہ تھا ہمارا کوریوگرافر۔ دلہن رنگ ماسٹر کی طرح ہاتھ میں چھڑی لے کر سب لڑکے لڑکیوں کو ہانکتی ہوئی میدان میں لے آئی تاکہ وہ ڈانس کی پریکٹس کریں۔

“لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہئیا ۔۔۔ آب و سامنے کولوں دی رس کے نہ لنگ ماہیا“ کی دھن پر خاندان کی تمام بچیاں، لڑکیاں اور بزرگ خواتین بڑے سے دائرے میں لڈی ڈال رہی تھیں۔ دائرے کے درمیان میں مہندی کا ایک بڑا تھال گیندے کے پھولوں، گھلی ہوئی جمیلہ مہندی اور چھوٹے چھوٹے دیوں سے سجا ہوا تھا جن میں صبح سویرے روئی کی بتیاں بنا کر ڈالی گئی تھیں اور ان کو سرسون کے تیل سے بھرا گیا تھا جبکہ تھال کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی چنگیریں پڑی تھیں جنہیں موم بتیوں، مہندی اور گوٹے کناری سے سجایا گیا تھا۔ مہندی کی تقریب پھپھو کی گھر کے بڑے لان میں منعقد ہو رہی تھی جسے لال اور سبز پھولوں اور آڑھے ترچھے ڈیزائین والی قناتوں سے سجا رکھا تھا۔ پورا بنگلہ بھی ہری، لال اور سنہری لائیٹوں کی لڑیوں سے جگمگا رہا تھا۔ ہم سب چھوٹی بڑی کزنز نے چٹا پٹی کے غرارے پہن رکھے تھے جو میری امی، دادی اور گھر کی بوا نے مل کر سئیے تھے۔ غرارہ سوٹ کے دوپٹوں پر مہندی کی صبح تک کرن اور لپا لگایا جا رہا تھا۔ لڑکے والوں کا استقبال گلاب کی پتیوں اور ہاروں سے کیا گیا اور اس کے بعد دونوں اطراف کا ڈھولک پر سخت مقابلہ ہوا۔ ہماری طرف سے “ میرے نیہر سے آج مجھے آیا یہ پیلا جوڑا یہ ہری ہری چوڑیاں“ تو لڑکت والوں کی طرف سے “دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا“ اور بلآخر مقابلہ ٹپوں تک پہنچا جب مہندی کی رسم کے لیے دلہن کے آنے کی صدا بلند ہوئی۔ پیلے گوٹا کناری کے سوٹ میں لپٹی لپٹائی دلہن سہیلیوں اور بہنوں کے جھرمٹ میں بدلیوں میں چھپا ہوا چودھویں کا چاند معلوم ہو رہی تھی۔ دلہن کو ملتانے پیڑے پر بٹھایا گیااور سات سہاگنوں نے مہندی کی رسم ادا کی۔ ہر خاتون آتی اور پہلے ہاتھ پر رکھے ہوئے پان کے پتے پر مہندی لگاتی، گھونگھٹ کے اندر ہاتھ ڈال کر ٹتول کر دلہن کے سر پر تیل لگاتی اور اندازے سے مٹھائی منہ میں ڈال دیتی۔ یہ سب ٹٹولنا اور اندازے اس لیے لگائے جا رہے تھے کیونکہ دلہن کا چہرہ گھونگھٹ میں چھپا ہوا تھااور دلہن کی بہنیں سخت پہراداروں کی مانند سسرال والوں کو دلہن کی جھلک تک نہیں دیکھنے دے رہی تھیں۔ رسم کے بعد دلہن واپس گھر کے اندر چلی گئی جہاں ڈرائینگ روم کے ایک اندھیرے کونے میں دلہن اپنی چند خاص سہیلیوں کے ہمراہ بیٹھی چپکے سے باہر کے مناظر دیکھنے میں مسروف ہو گئی۔ کچھ دیر بعد دولہے میاں کی باری آئی۔ مہندی کی رسم ادا کرنے کے بعد سالیوں نے دولہے کے خوب ابٹن ملا۔ یہ ساری دھماچوکڑی کھانا کھلنے پر ختم ہوئی۔ پلاؤ کی دیگ کا منہ کھلنے پر ساری قنات میں زعفران کی خوشبو بکھر گئی۔ مہمانوں نے پلاو کے ساتھ ساگ گوشت، مرغ قورمہ اور میٹے میں فیرنی کی ٹھوٹھیاں نوش فرمائیں۔

وہ مہندی ہی کیا جس میں دولہا دلہن کی اینٹری شاندار نہ ہو تو اسی لیے ہمارے ٢٠١٤ ماڈل دولہا کی اینٹری بیل گاڑیوں پر ، مجھ کو کہتے سپر مین آن کر لو ہینڈی کیم ۔۔۔ میں تیرا ہیرو، کی لے پر ہوئی اور دلہن بیگم پالکی پر سوار، بےبی ڈال میں سونے دی، کی دھن پر پنڈال میں آئیں اور اس کے بعد دے دھنادھن لکڑی کے ڈانس فلور پر ڈسکو لائٹس کی چمک کے بیچ اور سموک مشین کے دھوئیں کے غبار میں دولہا اور دلہن کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ مہندی کی رسم انسٹرومینٹل بیک گراؤنڈ میوزک می طرح سٹیج پر بیٹھے دولہا دلہن کے ہاتھوں پر رکھے گئے گوٹے سے سجے ہوئے پتوں پر ادا کی گئی۔ مٹھائی کی جگہ چاکلیٹ نے لے لی اور ابٹن تیل سرے سے ہی غائب ہو گئے کیونکہ اس ساری کاروائی سے دلہن کے بال اور میک اپ کے خراب ہونے کا خدشہ تھا۔ کھانا کھلنے پر ناچ گانے کو ذرا دیر کے لیے بریک لگی اور مہمان حلوہ، پوری، بھاجی اور بار بی کیو سے لطف اندوز ہوئے۔ کشمیری چائے، قہوہ، جلیبی اور پیٹھے کو حلوہ بھی بہت ذوق و شوق سے کھایا گیا اور پھر رات گئے تک ڈی جے کے پھڑکتے ہوئے گانوں پر سب نے مل کر ڈانس کیا۔ 

 

[box style="1"]مہوش نے لاھور کالج برائے خواتین سے انگریزی ادب اور نفسیات میں بی۔اے کیا اور پھر پنجاب لاء کالج سے ایل۔ایل۔بی کی ڈگری حاصل کی۔ عملی میدان میں ان کا تعلق نہ صرف تعلیم کے شعبے سے رہا بلکہ انہوں نے مختلف انسانی حقوق کے نجی اداروں میں بحیثیت منتظم کے بھی فرائض انجام دئے۔اس کے ساتھ ساتھ اردو ادب سے ان کا تعلق ھمیشہ بہت گہرا رہا اور اس کی بنیادی وجہ بہت حد تک ان کے والدین کا اردو ادب سے لگاؤ تھا۔ فی الوقت مہوش ایشئین سیولائیزیشن میوزیم سنگاپور میں بطور ڈوسنٹ یا گائیڈ کے تربیت حاصل کر رہی ہیں.[/box]

 

Share

Comments

comments

Comments are closed.